چیز ٹکرائی، میں نے غور سے دیکھا تو وہ اونٹ کی کھال کا ایک ٹکڑا تھا، میں نے اسے اٹھا لیا پھر اسے دھوکر جلایا،دوپتھروں کے درمیان رکھ کر پیسا اور اسے کھا کر پانی پی لیا اور میں نے تین دن اسی پر گزار دئیے۔‘‘(1)
یہ آزمائش کیوں۔۔۔؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسلام کے ابتدائی ایام میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پرآنے والی تکالیف اور ان پرعظیم صبر واستقامت سے ہمیں بھی مدنی پھول حاصل کرنے چاہئیں، اگر راہِ خدا میں سفر کرتے ہوئے ہمیں بھی کوئی تکلیف پیش آجائے مثلاً کھانا وقت (Time) پر نہ ملے یا کوئی سامان وغیرہ چوری ہو جائے تو ہماری زبان پر شکوہ و شکایت والے الفاظ جاری ہوجاتے ہیں کہ ہم تو راہِ خدا کے مسافر ہیں پھر بھی یہ آزمائش کیوں؟ تو بے صبری کا مظاہرہ کرنے کے بجائے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی ان تکالیف کو یاد کر لیا کریں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان شیطانی وساوس کی کاٹ ہو جائے گی۔ بلکہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سیرتِ طیبہ پر غور کریں تو کئی ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جن میں انہوں نے رضائے خداوندی کے حصول کی خاطر خود آگے بڑھ کر تکالیف کو گلے لگا لیا۔ چنانچہ ،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… حلیۃ الاولیاء، سعد بن ابی وقاص، الحدیث:۲۹۴، ج۱، ص۱۳۵