Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
27 - 87
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے جن چار اصحاب کو کفار کے معاملے میں انتہائی غیور، سخت اور نہایت ہی مضبوط و طاقتور سمجھا جاتا تھا وہ یہ ہیں: (۱)امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ (۲)امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم (۳) حضرت سیِّدُنا زبیربن عوام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور(۴) حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ۔(1)
راہِ خدا میں تکالیف اور اُن پرصبر:
حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہچونکہ ابتدائی دور میں اسلام لانے کی سعادت سے مشرف ہوئے تھے اس لیے انہیں راہِ خدا میں تکالیف بھی بہت زیادہ برداشت کرناپڑیں، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہخودان تکالیف کو بیان کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں:’’مکہ مکرمہ میں ہم لوگوں نے رحمتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ بڑی مصیبت بھری زندگی گزاری، البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہم پرخصوصی فضل وکرم فرمایاکہ تکلیفوں پر صبر کی دولت عطا فرمائی یہاں تک کہ ہمیں تنگی وتکلیف برداشت کرنے کی عادت ہو گئی۔ میں ایک رات قضائے حاجت کے لیے باہر نکلا تو میرے پاؤں سے ایک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 … تاریخ مدینۃ دمشق، سعد بن مالک ابی وقاص،ج۲۰، ص۳۲۲