Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
26 - 87
اوروہاں نماز اداکرتے۔ایک بار حسبِ معمول صحابۂ  کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نمازمیں مشغول تھے کہ کچھ مشرکین ادھر آنکلے اورصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پر آوازیں کسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے۔ پھربات اس قدر بڑھی کہ ہاتھا پائی شروع ہوگئی تو ’’حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی غیرتِ ایمانی جوش میں آئی اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُونٹ کے جبڑے کی ہڈی ایک کافر کو دے ماری جس سے اس کا سر پھٹ گیا۔‘‘ یوں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی وہ خوش نصیب شخصیت ہیں جنہیں اسلام کی خاطر سب سے پہلے کسی کافر کا خون بہانے کی سعادت نصیب ہوئی۔(1)
چارغیور صحابۂ کرام عَلَیْہِم ُ   الرِّضْوَان :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا شمار ان صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں ہوتاتھا جنہیں کفار کے معاملے میں بہت غیور اور سخت سمجھا جاتا تھااور  ایسا کیونکر نہ ہوتا کیونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تووہ خوش نصیب صحابی ہیں  جنہوں نے اپنے محبوب آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے مقابلے میں اپنی ماں تک کی پرواہ نہیں کی توکسی دوسرے کی کیا مجال کہ ان کے سامنے اسلام کے خلاف ایک لفظ بھی منہ سے نکالے۔ چنانچہ،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 … اسد الغابۃ ،سعد بن مالک القرشی، ج۲،ص۴۳۴