Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
25 - 87
الْمُرّہ‘‘ کے پاس ایک چشمے پر پہنچا تو ابو سفیان یا ابو جہل کے بیٹے عکرمہ (جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے) کی کمان میں دو سو کفار قریش جمع تھے، دونوں لشکروں کا آمنا سامنا ہوا۔ حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کفار پر تیر پھینکا، یہ سب سے پہلا تیر تھا جو مسلمانوں کی طرف سے کفارِ مکہ پر چلایا گیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ترکش میں موجود بیس کے بیس تیر اس مہارت و چابکدستی سے چلائے کہ ہر تیر کسی انسان یا جانور کو زخمی کر گیا۔ کفاران تیروں کی مار سے گھبراکرفرارہو گئے اس لیے دونوں لشکروں کے مابین کوئی جنگ نہیں ہوئی۔(1)
حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاس عظیم سعادت کوکچھ یوں بیان فرمایا کرتے کہ ’’میں عرب کا وہ پہلا شخص ہوں جس نے اللہ 1کی راہ میں سب سے پہلے تیر چلایا۔(2)
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی غیرتِ ایمانی:
ابتدائے اسلام میں جب صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نماز پڑھنے کا ارادہ کرتے تو مشرکین کی نظروں سے بچنے کے لئے مکہ کی ایک گھاٹی کی جانب چلے جاتے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 …کتاب المغازی للواقدی، سریۃ عبیدۃ بن الحارث الی رابغ، ج۱، ص۱۰
                     سبل الھدی والرشاد، الباب الخامس فی سریۃ عبیدۃ بن الحارث، ج۶، ص۱۳
2 …صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب مناقب سعد بن ابی وقاص، الحدیث: ۳۷۲۸، ج۲، ص۵۴۱