Brailvi Books

حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
24 - 87
پھر ارشاد فرمایا: ’’اے عائشہ! میں مرسلین کا سردار ہوں، تمہارے والد افضل الصدیقین (یعنی سچوں میں سب سے زیادہ فضیلت والے) ہیں اور تم ام المومنین (یعنی مومنین کی ماں) ہو۔‘‘(1)
راہِ خدا میں سب سے پہلا تیر:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہآغوشِ اسلام میں آئے تو اسلام کی محبت ان کے دل میں اس طرح بس گئی کہ اس کی خاطرتن من دھن قربان کرنے کا جذبہ ان کی نس نس میں سرایت کرگیااور کئی مواقع پرانہوں نے اس کاعملی مظاہرہ بھی فرمایا،حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکویہ عظیم سعادت نصیب ہوئی کہ کفارکے خلاف سب سے پہلا تیرآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ہی چلایا۔چنانچہ،
دو عالم کے مالِک و مختار باذن پروردگار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے تقریباً ساٹھ یا اسّی مہاجرین کے ساتھ حضرت سیِّدُنا عبیدہ بن حارث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سفید جھنڈے کے ساتھ امیر بنا کر جُحْفَہ سے دس میل کے فاصلے پر رَابِغ نامی مقام کی طرف روانہ فرمایا۔ اس لشکر کے علمبردار حضرت سیِّدُنا مِسْطَحْ بِنْ اُثَاثَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے۔ جب یہ لشکر وادیٔ رَابِغ میں ’’ثَنِیَّۃُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 …الریاض النضرہ،ج۱،ص۳۵