کے لیے سفر کرنا چاہتا ہے اس کے لیے والدین سے اجازت حاصل کرے، اگر والدین اس سفر کو منع کریں اور اس کو اندیشہ ہو کہ میرے جانے کے بعد ان کی کوئی خبر گیری نہ کرے گا اور اس کے پاس اتنا مال بھی نہیں ہے کہ والدین کو بھی دے اور سفر کے مصارف (یعنی اخراجات) بھی پورے کرے، ایسی صورت میں بغیر اجازتِ والدین سفر کو نہ جائے اور اگر والدین محتاج نہ ہوں، ان کا نفقہ (یعنی روٹی، کپڑے وغیرہ کا خرچ) اولاد کے ذمہ نہ ہو مگر وہ سفر خطرناک ہے ہلاکت کا اندیشہ ہے، جب بھی بغیر اجازت سفر نہ کرے اور ہلاکت کا اندیشہ نہ ہو تو بغیر اجازت سفر کرسکتا ہے۔ بغیر اجازتِ والدین علم دین پڑھنے کے لیے سفر کیا اس میں حرج نہیں اور اس کو والدین کی نافرمانی نہیں کہا جائے گا۔(1)
(۵)…اگر کوئی شخص پردیس میں ہے والدین اسے بلاتے ہیں تو آنا ہی ہو گا، خط لکھنا کافی نہیں ہے۔ والدین کو اس کی خدمت کی حاجت ہو تو آئے اور ان کی خدمت کرے۔(2)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراھیۃ، الباب السادس والعشرون،ج۵، ص۳۶۵، ۳۶۶ ملتقطاً
2 …بھارشریعت، ج۳، حصہ۱۶، ص۵۵۹