بیعت کو بیعتِ رضوان کہتے ہیں۔‘‘
امین الامت:
حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وہ خوش نصیب صحابی ہیں جنہیں بارگاہِ رسالت سے ’’امین الامت‘‘ کا لقب عطا ہوا۔ چنانچہ،
حضرت سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں۔‘‘(1)
امین شخص کامطالبہ:
حضرت سیدنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ اہل نجران بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہمارے پاس ایک ایسا آدمی بھیج دیجئے جو امین (امانت دار) ہو۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’میں تمہارے پاس ایک ایسا امین بھیجوں گا جو ویسا ہی امین ہے جیسا اسے ہونا چاہیے۔‘‘ تو لوگوں نے دیکھا کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی،الحدیث:۳۷۴۴،ج۲،ص۵۴۵