Brailvi Books

حضرت سیدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
53 - 58
سہیل انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے اور صندوقی قبر کھودنے والے حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے، مدینہ میں  دو ہی بزرگ صحابی تھے جنہیں  قبر کھودنا آتی تھی، ان کا پیشہ گورکنی نہ تھا۔ اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ صندوقی قبر منع نہیں  ورنہ حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراحرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جیسے صحابی ایسی قبر نہ کھودا کرتے اور صحابہ کبار ان دونوں  کو  پیغام نہ بھیجتے، خیال رہے کہ اگرچہ تمام صحابہ قبر کھودنا جانتے تھے مگر وہ دونوں  حضرات بہت مشاق تھے انہوں  نے چاہا کہ قبر انور بہت اعلیٰ درجے کی تیار ہو جو بہت تجربہ کار ہی کر سکتا ہے۔(1)
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ    سے مروی 
چند احادیثِ مبارکہ
(1)… دلوں  کی کیفیت:
حضور نبی ٔکریم، رَء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کے بعد کوئی نبی دجال سے ڈرانے کے لئے نہیں  آیا، پس میں  تمہیں  اس سے ڈراتا ہوں۔‘‘ پھر سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کی نشانیاں  بیان فرمائیں  اور فرمایا: ’’شاید مجھے دیکھنے والے اور میرا کلام سننے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مراٰۃ المناجیح،ج۲،ص۴۹۰بتصرف