میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا اپنی اولاد کے لئے طاعون کی دعا کرنا درحقیقت ان کے لئے شہادت ورحمت کی دعا کرنا ہے کیونکہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے شہادت فرمایا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: ’’ طاعون ہرمسلمان کی شہادت ہے۔‘‘(1)ایک اورروایت کاخلاصہ ہے کہ ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے مسلمانوں کے لئے رحمت بنایا ہے۔‘‘(2)
صندوقی قبرکھوداکرتے:
حضرت سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ قبر کھودنے والے مدینہ میں دو شخص تھے ایک بغلی کھودتا تھا جبکہ دوسرا بغلی کھودنا نہیں جانتا تھا (یعنی صندوقی کھودتا تھا) صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قبر کھودنے کے لیے ان دونوں کو پیغام بھیجا اور کہا کہ ان میں جو پہلے آئے گا وہ ہی رسول ﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے قبر بنائے۔توپہلے وہی صحابی تشریف لائے جو بغلی قبر کھودتے تھے لہٰذاسرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بغلی قبر کھودی گئی۔‘‘ بغلی قبر یعنی لحدوالی قبر کھودنے والے صحابی حضرت سیِّدُنا ابو طلحہ زید بن
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…صحیح البخاری، کتاب الجھاد والسیر، باب الشھادۃ سبع، الحدیث:۲۸۳۰، ج۲، ص۲۶۳
2…کنزالعمال، الحدیث: ۲۸۴۳۰، الجزء العاشر، ج۵، ص۳۱ ملتقطاً