Brailvi Books

حضرت سیدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
51 - 58
شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۶۷۶ھ) فرماتے ہیں  کہ ’’حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مزارِ پر انوار پر ایک عجیب قسم کی جلالت طاری ہے جو یقیناً ان کے شایانِ شان ہے اور جب میں  نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مزارِ پر انوار کی زیارت کی تو وہاں  کئی عجائبات دیکھے۔‘‘(1)
ایک ہی دن طاعون کا حملہ ہوا:
حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن غنم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل، حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جَراح، حضرت سیِّدُنا شُرَحْبِیْل بن حَسَنَہ اور حضرت سیِّدُنا ابو مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم چاروں  بزرگوں  پر ایک ہی دن طاعون کا حملہ ہوا۔ حضرت سیِّدُنا مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’یہ تمہارے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت اور تمہارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعا ہے، نیز تم سے قبل نیک لوگ اسی بیماری کے سبب فوت ہوئے، اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! مُعَاذ کی اولاد کو اس رحمت سے وافر حصہ عطا فرما۔‘‘ چنانچہ ابھی شام بھی نہ ہوئی تھی کہ آپ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ طاعون کے مرض میں  مبتلا ہو گئے جن کے نام سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی کنیت رکھی۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…تھذیب الاسماء، الجزء الثانی،  الرقم ۸۲۶ ابو عبیدۃ بن الجراح، ج۲،ص۵۳۷
2…مجمع الزوائد، کتاب الجنائز، باب فی الطاعون  ۔۔ الخ،  الحدیث:۳۸۶۳، ج۳، ص۴۸