Brailvi Books

حضرت سیدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
50 - 58
تمہارے نبی کی دعا اور تم سے پہلے گزرنے والے صالحین کی موت کا سبب ہے۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اللہعَزَّوَجَلَّ سے دعا کی کہ اس بیماری سے آپ کو بھی حصہ ملے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دعا قبول ہوئی اور چند دنوں  بعد طاعون کی بیماری میں  مبتلا ہو گئے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیت المقدس میں  نماز پڑھنے جا رہے تھے کہ راستے میں  ہی انتقال ہو گیا اور طاعون کے سبب شہادت کا مرتبہ پایا۔(1)
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا وصال ظاہری ۱۸سن ہجری میں  شام کے شہر اردن میں  ہوا، اس وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عمر ۵۸سال تھی اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دوست حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی، حضرت معاذ، حضرت عمرو بن عاص اور حضرت ضحاک بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو قبرمیں  اتارا۔(2)
مزارِ پرانوار:
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مزارِ پر انوار ملک شام کے شہر ’’غوربیسان‘‘ میں  مرجع خلائق ہے، شارح مسلم حضرت سیِّدُنا علامہ ابو زكريا یحییٰ بن شرف نووی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…تاریخ مدینہ دمشق،ج:۶۸،ص:۱۰۸
                 الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، الرقم ۴۴۱۸ عامر بن عبد اللہ، ج۳،ص۴۷۸
2…الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب،کتاب الکنی، ابوعبیدۃ بن جراح، ج۴،ص۲۷۳