بھی اشاعت علم کا کیسا عظیم جذبہ رکھتے ہیں ) ہم نے عرض کی: ’’کیوں نہیں۔‘‘ آپ نے ارشاد فرمایا: ’’میں نے حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جو اپنے اور اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے، مریض کی عیادت کرے، راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز دور کر دے تو اسکے لئے دس گنا اجر ہے، روزہ ایک ایسی ڈھال ہے جسے کوئی چیز چیر نہیں سکتی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ جسے کسی جسمانی بیماری میں مبتلا فرمائے تو وہ بیماری اس کے لیے مغفرت کا باعث ہے۔‘‘(1)
روزہ دار کے لیے جنت کی ضمانت:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اشاعت علم کا یہ جذبہ بارگاہِ نبوی عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُوَالسَّلَام سے ہی ملا تھا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مسائل پوچھا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جو رمضان کا روزہ رکھے اور تین چیزوں سے بچا رہے تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: ’’یارسول اللہ!
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…تاریخ مدینہ دمشق، ج۴۷، ص۲۶۰