Brailvi Books

حضرت سیدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
47 - 58
اور ہم تو آپس میں  اسلامی بھائی ہیں ، اللہ کے حکم کو قائم کرنے والے ہیں۔ ایسے لوگوں  کو اس بات سے کیا غرض کہ انہیں  کسی نے دنیوی یا دینی معاملے میں  شریک کیا ہے یا نہیں ؟ لیکن گورنر عام لوگو ں  سے زیادہ فتنےکے قریب ہوتا ہے اور اس سے غلطی کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں ، خطا سے تو وہ ہی شخص بچ سکتا ہے جسے اللہ بچائے۔‘‘ یہ کہتےہوئے حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مکتوب حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو دے دیا۔(1)
اشاعت علم کا عظیم جذبہ:
حضرت سیِّدُنا عِيَاض بِنْ غُطَيْف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  کہ ہم حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے آپ کی زوجہ پاس ہی بیٹھی ہوئی تھیں  اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا چہرہ دیوار کی طرف تھا، ہم نے آپ کی زوجہ سے پوچھا: ’’ان کی رات کیسے گزری ہے؟‘‘ انہوں  نے کہا: ’’صحیح گزری۔‘‘ تو اچانک آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ہماری طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا: ’’میری رات ٹھیک نہیں  گزری۔‘‘ اور فرمانے لگے: ’’کیا تم مجھ سے کوئی علمی بات نہیں  پوچھو گے؟‘‘ ہمیں  بڑا تعجب ہوا (کہ اتنے شدید مرض میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… الریاض النضرۃ،ج۲،ص۳۵۳