سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا دورِ خلافت آیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو معزول کر کے حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراحرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شام کا گورنر مقرر فرما دیا، نئی تقرری کا یہ مکتوب دورانِ جنگ موصول ہوا تھا لہٰذا حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو چھپا دیا، جب جنگ ختم ہوئی تو حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنی معزولی اور حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تقرری کا علم ہوا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراحرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ’’آپ نے مجھے اس مکتوب کے متعلق کیوں نہیں بتایا جس میں آپ کی تقرری کا حکم تھا، گورنری کا عہدہ آپ کے پاس تھا آپ پھر بھی میرے پیچھے نماز پڑھتے رہے؟‘‘ حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پیار بھرے انداز میں ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی مغفرت فرمائے، میں نے آپ کو نہیں بتایا لیکن دیگر لوگوں نے آپ کو بتا دیا، میں جنگ کے اختتام کا منتظر تھا اگر دورانِ جنگ بتاتا تو شاید جنگی معاملات میں خلل واقع ہوتا، ارادہ یہ ہی تھا کہ مناسب موقعے پر آپ کو بتا دوں گا اور ویسے بھی مجھے گورنری کے عہدے کی کوئی خواہش نہیں اور نہ ہی میں دنیا کے لیے کوئی عمل کرتا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے دنیا ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گی