موت تم سے مؤخر کر دی جائے تو تمہارے لیے تین خادم کافی ہیں : (۱)ایک وہ خادم جو تمہاری خدمت کرے (۲)ایک وہ جو تمہارے ساتھ سفر کرے (۳)ایک وہ جو تمہارے اہل یعنی گھر والوں کی خدمت کرے۔ اسی طرح تمہارے لیے تین سواریاں کافی ہیں : (۱)تمہارے سفر کی سواری (۲)تمہارا بوجھ اٹھانے والی سواری (۳)تمہارے غلام کی سواری۔‘‘ بس اسی فرمان کی وجہ سے میں رو رہا ہوں کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ میرا گھر تو چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بھی بھرا ہوا ہے، نیز میرا اصطبل گھوڑوں اور خچروں سے پُر ہے۔ مجھے یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سامنا کیسے کروں گا؟ کیونکہ حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا ہے: ’’قیامت میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور میرے سب سے زیادہ قریب وہ ہو گا جو مجھ سے اسی حال میں ملے جس حال میں مَیں نے اس کو چھوڑا تھا۔‘‘(1)
آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حکمت عملی:
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانہ خلافت میں حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ شام کے والی تھے، جب حضرت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…کنزالعمال، کتاب الفضائل، فضائل الصحابۃ، الحدیث:۳۶۶۵۸، ج۷، الجزء۱۳، ص۹۴
الریاض النضرۃ،ج۲،ص۳۵۳