ہو،اٹھو اور خالد بن ولید کی مدد کے لیے پہنچو، انہیں کفار نے گھیرے میں لے لیا ہے۔‘‘ یہ سننا تھا کہ پورے لشکر نے فوراً تیاری شروع کر دی۔ جیسے ہی حضرت خالدبن ولیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس پہنچے تو کفار اسلامی لشکر کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے، لیکن مسلمانوں نے ان کا تعاقب جاری رکھا اور اِس زور سے حملہ کیا کہ ان کے قدم اکھڑ گئے اور انہیں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، نیز تمام مسلمان قیدیوں کو بھی چھڑا لیا گیا۔(1)
فریاد امتی جو کرے حالِ زار میں
ممکن نہیں کہ خیربشر کو خبر نہ ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
خلوت میں فکر مدینہ:
ایک شخص حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رو رہے ہیں ، اس نے عرض کی: ’’حضور! کس چیز نے آپ کو رُلایا؟‘‘ فرمایا: ایک دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسلمانوں کے ہاتھوں ہونے والی فتوحات کا ذکر فرما رہے تھے، آپ نے شام کا ذکر بھی فرمایا اور مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’اے ابوعبیدہ! اگر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… فتوح الشام، جبلۃ یحارب خالدا، الجزء الاول، ص۱۱۵