تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’ہم امیر المومنین کے اس حکم کی جان و دل سے اطاعت کرتے ہیں۔‘‘(1)
احساسِ ذمہ داری کے کیا کہنے!
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے احساسِ ذمہ داری کے کیا کہنے! ان کے علم میں یہ بات تھی کہ امیر المومنین مجھے طاعون کی وجہ سے بلا رہے ہیں لیکن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس تکلیف کوذرہ بھراہمیت نہ دی اوراپنے ماتحت لشکرکے مجاہدوں سے جدائی کوگوارا نہ کیا، بلکہ بطریقِ احسن امیر المومنین کی خواہش کوواپس لوٹادیا،جبھی توامیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ کےشوق وولولے کو سراہتے ہوئے دوسری جانب کوچ کا حکم دے دیا۔
ممکن نہیں کہ خیربشر کو خبر نہ ہو:
حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسلامی لشکر کے ساتھ مقام شیزر پر قیام کیا تو روزانہ کچھ مسلمان لکڑیاں جمع کرنے کے لئے جنگل جایا کرتے اور ان کو جلا کر کھانا وغیرہ پکاتے، ایک دن جب وہ گئے تو واپس ہی نہ آئے،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المستدرک،کتاب معرفۃ الصحابۃ، ذکر وفاۃ ابی عبیدۃ، الحدیث:۵۱۹۵، ج۴،ص۲۹۶