ہو فوراً رخت سفر باندھ لیجئے گا، اگر رات کو ملے تو صبح کا، صبح ملے تو شام کا انتظار نہ کیجئے گا۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مکتوب پڑھا تو فوراً مقصد سمجھ گئے اور فرمانے لگے: ’’مجھے امیرالمومنین کی حاجت بخوبی معلوم ہے، یقیناً امیر المومنین اس شخص کی حیات چاہتے ہیں جس کی موت مقدر ہے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیدناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جواباً لکھا: ’’مجھے آپ کی حاجت کا بخوبی علم ہےآپ مجھے بلانے کا عزم ترک فرما دیں کیونکہ میں مسلمانوں کے اس لشکر میں ہوں جسے تنہاچھوڑنامیرے بس میں نہیں ہے۔‘‘ جب حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ جواب موصول ہوا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپڑھ کر رونے لگے۔ (غالباً آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیدناابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے صبروشکر، احساس ذمہ داری اور اپنے لشکر کے ہمراہیوں سے انسیت ومحبت کو دیکھ کر خوشی کے آنسو روئے) پوچھا گیا: ’’کیا ابو عبیدہ انتقال فرما چکے ہیں ؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک اور مکتوب آپکی جانب روانہ فرمایا جس کا مضمون کچھ یوں تھا کہ’’اردن شیروں کو بیمار کرنے والی زمین ہے اور جابیہ کی زمین خوش گوار ہے، آپ مسلمانوں کو جابیہ لے کر چلے جائیں۔‘‘ اس مکتوب کو پڑھتے ہی حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ