Brailvi Books

حضرت سیدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
40 - 58
کرامت ہے۔ پھر مچھلی ایک ایسی چیز ہے کہ مرنے کے بعد دوچار دنوں  میں  سڑگل کر اور پانی بن کر بہ جاتی ہے مگر عادت جاریہ کے خلاف مہینوں  تک یہ مری ہوئی مچھلی زمین پر دھوپ میں  پڑی رہی پھر بھی بالکل تازہ رہی نہ اس میں  بدبو پیداہوئی نہ اس کا مزہ تبدیل ہوا، یہ تیسری کرامت ہے۔ غرض اس عجیب و غریب مچھلی کا مل جانا اس ایک کرامت کے ضمن میں  چند کرامتیں  ظاہر ہوئیں  جو بلا شبہ امیر لشکر حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جنتی صحابی کی بہت ہی عظیم اور نادرُ الوجود کرامتیں  ہیں۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اپنے ماتحتوں  سے دلی محبت:
ملک شام میں  جب طاعون کی وباپھیلنے لگی تو اس وقت مسلمانوں  کاایک لشکر اردن میں  تھا جس کے سپہ سالار حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے، امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنے پاس بلانے کے لیےان کی جانب ایک مکتوب روانہ کیا جس میں  ارشاد فرمایا: ’’ہمیں  ایک حاجت درپیش ہے جس میں  آپ سے مشاورت بہت ضروری ہے۔ لہٰذا جیسے ہی آپ کو میرا یہ مکتوب موصول