Brailvi Books

حضرت سیدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
39 - 58
یہاں  تک کہ سب لوگ تندرست اور خوب فربہ ہو گئے۔ پھر چلتے وقت اس مچھلی کا کچھ حصہ کاٹ کر اپنے ساتھ لے کر مدینہ منورہ واپس آئے اور حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اقدس میں  بھی اس مچھلی کا ایک ٹکڑا پیش کیا۔ جس کو آپ نے تناول فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اس مچھلی کو اللہ تعالٰی نے تمہارا رزق بنا کر بھیج دیا۔ یہ مچھلی کتنی بڑی تھی لوگوں  کو اس کا اندازہ بتانے کے لیے امیر لشکر حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حکم دیا کہ اس مچھلی کی دو پسلیوں  کو زمین میں  گاڑ دیں۔ چنانچہ دونوں  پسلیاں  زمین پر گاڑ دی گئیں  تو اتنی بڑی محراب بن گئی کہ اس کے نیچے سے کجاوہ بندھا ہوا اونٹ گزر گیا۔‘‘(1)
ایک کرامت کے ضمن میں  کئی کرامتیں :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ایسے وقت میں  جبکہ لشکر میں  خوراک کا سارا سامان ختم ہو چکا تھا اورلشکر کے سپاہیوں  کے لیے بھوک سے مرجانے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں  تھا بالکل ہی ناگہاں  بغیر کسی محنت و مشقت کے اس مچھلی کا خشکی میں  مل جانا اس کو کرامت ہی کہا جاسکتاہے ۔ پھر اتنی بڑی مچھلی کہ تین سو بھوکے سپاہیوں  نے اس مچھلی کو کاٹ کاٹ کر اٹھارہ دنوں  تک خوب شکم سیر ہوکر کھایا، یہ ایک دوسری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب غزوۃ سیف البحر...الخ، الحدیث:۴۳۶۰، ۴۳۶۱، ج۳، ص۱۲۷