ہی احساسِ ذمہ داری سے اسے پورا کرنے کی کوشش کرتے ہوں ، نیز جب وہ عہدہ لے لیا جائے تو غیبتوں ، تہمتوں ، بہتانوں کے انبار لگ جاتے ہیں ، کاش! ہم بھی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سیرت پرعامل ہوجائیں اور کوئی عہدہ ملے یانہ ملے ہمارے قلوب غیبت، تہمت، بہتان وغیرہ باطنی امراض سے پاک ہی رہیں۔
آپ کی کرامت،بے مثال مچھلی:
تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ ۳۴۲ صفحات پر مشتمل کتاب ’’کراماتِ صحابہ‘‘ صفحہ ۱۴۰ پر ہے: ’’آپ (یعنی حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) تین سو مجاہدین اسلام کے لشکر پر سپہ سالار بن کر سیفُ البحر میں جہاد کے ليے تشریف لے گئے۔ وہاں فوج کا راشن ختم ہو گیا یہاں تک کہ یہ چوبیس چوبیس گھنٹے میں ایک ایک کھجور بطورِ راشن کے مجاہدین کو دینے لگے۔ پھر وہ کھجوریں بھی ختم ہو گئیں۔ اب بھکمری (یعنی بھوک سے مر جانے) کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں تھا۔ اس موقع پر آپ کی یہ کرامت ظاہر ہوئی کہ اچانک سمندر کی طوفانی موجوں نے ساحل پر ایک بہت بڑی مچھلی کو پھینک دیا اور اس مچھلی کو یہ تین سو مجاہدین کی فوج اٹھارہ دنوں تک شکم سیر ہو کر کھاتی رہی اور اس کی چربی کو اپنے جسموں پر ملتی رہی