Brailvi Books

حضرت سیدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
37 - 58
نہ ہوتا تو میں  آپ کے ہوتے ہوئے کبھی بھی یہ منصب قبول نہ کرتا، کیونکہ آپ مجھ سے پہلے ایمان لائے ہیں ، آپ تو ایسے صحابی رسول ہیں کہ بارگاہِ رسالت سے امین الامت ہونے کی سند حاصل ہے۔ پھر حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  بھی گھوڑے پر سوار ہو کر حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراحرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ساتھ لے کرلشکر کی قیام گاہ کی طرف چل پڑے۔(1)
عہدہ لے کرآزمائش :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی جب کسی کو آزمایا جاتا ہے تو عہدہ دے کر نہیں  بلکہ لے کر آزمایا جاتا ہے، صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اولاً تو کسی بھی دنیوی عہدے کی خواہش ہی نہ فرماتے بلکہ اس سے دور بھاگتے اور بالفرض کبھی انہیں  کوئی عہدہ دے دیا جاتا تو اسے مکمل احساسِ ذمہ داری سے نبھاتے اور جب وہ عہدہ لے لیا جاتا تو اس پر ناراض ہونے کے بجائے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتے اور اس طرح خوش ہوتے جیسے کوئی بہت بڑا بوجھ ان کے سر سے اتار دیا گیا ہو، مگر افسوس! آج ہماری حالت تو یہ ہے عہدوں  کے پیچھے ایسے بھاگتے پھرتے ہیں  جیسے آخرت میں  کامیابی کا دارومدار ہی اسی پر ہے اور جب عہدہ مل جائے تو شاید
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 …فتوح الشام، الجزء الاول،ص ۳۵ملخصاً