امین الامۃ اور سیف اللہ کا مدنی مکالمہ:
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کےاس حکم نامے کے موصول ہونے کے بعد جب حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اسلامی لشکر کے ساتھ اس مقام پر پہنچے جہاں سیف اللہ حضر ت سیدناخالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے لشکر کے ساتھ رومیوں سے بر سرپیکار تھے، چونکہ اس وقت حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سوار تھے آپ نے اپنے گھوڑے سے اترنا چاہا مگر حضرت سیدناخالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قسم دے کر اترنے سے منع کر دیا حضرت سیدناخالد بن ولیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آپ سے بہت محبت کیا کرتے تھے، دونوں نے ایک دوسرے سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا، حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا: اے ابو سلیمان! جب امیر المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے مکتوب کے ذریعے یہ خبر ملی کہ آپ کو سپہ سالار مقرر کر دیا گیا ہے تو مجھے بےپناہ خوشی ہوئی،میں آپ کی جنگی مہارت سے بخوبی آگاہ ہوں ، میرے دل میں تو آپ کے لئےذرہ برابرکینہ نہیں۔ حضرت سیِّدُنا خالد بن ولیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا: بخدا! میں کوئی بھی فیصلہ آپ سے مشاورت کئے بغیر نہیں کروں گا، خدا کی قسم! اگر امیر المومنین کا حکم