تمام تفصیلات سےآگاہ کرنےکےلئےحضرت سیِّدُنا عامر بن دوسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کےہاتھ ایک مکتوب روانہ کیا،سب سے پہلے یہ مکتوب امیرالمومنین کو پہنچا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وہ خط پڑھ کر مسلمانوں کو سنایا،مسلمان یہ سن کر خوشی سے تکبیر وتہلیل کے نعرےلگانے لگے۔ آپ نے حضرت سیدناعامررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے شام کی کیفیت معلوم کی، چونکہ اس وقت شام مختلف فتنوں کی لپیٹ میں تھا حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نہایت ہی متقی اور پرہیزگار نیز سیدھے سادے تھے اور ان فتنوں کو سمجھنا نہایت دشوار تھا اس لیے امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اکابر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی مشاورت سے حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی جگہ حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سپہ سالار مقرر فرما دیا۔ جب حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ خبر پہنچی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بہت خوش ہوئے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ، اطاعت تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خلیفہ کے لئے ہے۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تقرری کی خبر خود جا کر مسلمانوں کو سنائی۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…فتوح الشام،خالد بن ولید فی الشام، الجزء الاول، ص۲۰تا ۲۴ملخصاً