Brailvi Books

حضرت سیدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
34 - 58
ہے یہاں  تک کہ لوگ اپنے ٹھکانے جنت یا دوزخ کی طرف چلے گئے۔پھرآپ دونوں  نے اس بات کابھی اظہارکیاہے کہ ’’آخری زمانے میں  اس امت کا یہ حال ہوگا کہ لوگ بظاہر بھائی بھائی اوردل سے ایک دوسرے کے دشمن ہوں  گے۔‘‘ لیکن آپ لوگ تو ایسے نہیں  اور نہ ہی یہ وہ زمانہ ہے کیوں  کہ اِس زمانہ میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف رغبت اور اس کا خوف ظاہر ہے،لوگ اصلاحِ دنیا کے لئے ایک دوسرے کی طرف رغبت کرتے ہیں۔اورآخر میں  تحریرکیاکہ’’ آپ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں اس بات سے کہ میں یہ خط پڑھ کروہ مفہوم لوں  جو آپ کے دلوں  میں  نہیں ہے جبکہ آپ نے توخیرخواہی کے لئے لکھا ہے۔‘‘آپ دونوں نے سچ کہا ہے۔ مجھے آئندہ بھی آپ کے خط کاانتظار رہے گا، میں  آپ حضرات (کی خیرخواہی) سے بے نیاز نہیں ہوں  ۔‘‘ وَالسَّلَامُ عَلَیْکُمَا۔(1)
عہدہ لیے جانے پر حمد الٰہی:
حضرت سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جب فلسطین میں فتح حاصل ہوئی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےامیر المومنین حضرت سیدناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور اپنے سپہ سالار حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 …المصنف لابن  ابی شیبۃ، کتاب الزھد ،کلام عمر بن الخطاب ، الحدیث:۱۰، ج۸، ص۱۴۸