پر دشمن ہوں گے ہم اللہعَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں اس بات سے کہ یہ خط آپ کو ہماری طرف سے وہ بات پہنچائے جو ہمارے دلوں میں نہیں ، ہم نے محض آپ کی خیر خواہی کے لئے آپ کویہ خط لکھاہے ۔وَالسَّلَام عَلَیْک۔
امیر المومنین حضرت سیدناعمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس خط کا جواب یوں دیا: یہ تحریرعمر بن خطاب(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)کی طرف سے ابوعبیدہ بن جَراح اور معاذبن جبل( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) کی طرف ہے۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمَا:حمد و ثنا کے بعد!مجھے آپ لوگوں کا خط ملا جس میں آپ نے وصیت کی ہے کہ’’ میرا معاملہ سخت تر ہے اور مجھے اس امت کے سرخ وسیاہ کی ولایت سونپی گئی ہے، میرے سامنے شریف و ذلیل (یعنی گھٹیا)، دشمن و دوست آئیں گے،بے شک ہر شخص کا عدل میں حصہ ہے۔‘‘ آپ دونوں نے لکھا ہے کہ ’’اے عمر! اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی۔‘‘ بے شک عمر کواطاعت کی توفیق اور معصیت سے بچنے کی قوت دینے والا صرف اللہعَزَّوَجَلَّ ہے اور آپ لوگوں نے مجھے لکھا ہے کہ’’ آپ لوگ مجھے اس معاملہ سے ڈراتے ہیں جس سے سابقہ اُمتیں ڈرائی جاتی رہیں۔‘‘پہلے ہی رات اوردن کے بدلنےنے لوگوں کی اموات کے ساتھ ہردُور کو قریب اور ہرنئے کو پرانا کردیا ہے نیزہر آنے والے کو حاضرکر دیا