حضرت سیِّدُنا محمد بن سُوقَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت نُعَیْم بن اَبِی ھِنْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس آیاتوانہوں نے مجھے ایک کاغذنکال کر دکھایا جس پر لکھا تھا: ’’یہ خط ابو عبیدہ بن جَراح و مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی طرف سے امیر المومنین حضرت سیدناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف ہے۔‘‘
’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْک!حمد و ثنا کے بعد! ہم دونوں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ’’جومعاملہ(یعنی خلافت)آپ کے سپردکیاگیاہے وہ اہم ترین ہے، آپ کواس امت کے سرخ و سیاہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، آپ کے پاس معززوحقیر، دشمن و دوست سبھی فیصلے کروانے آئیں گے اور عدل وانصاف ہرایک کاحق ہے۔ اے عمر!غورکرلیجئےکہ اس وقت آپ کی کیاکیفیت ہو گی۔ ہم آپ کو اس دن سے ڈراتے ہیں جس دن لوگوں کے چہرے جھک جائیں گے، دل کانپ اُٹھیں گے اور تمام حجتیں ختم ہو جائیں گی۔ صرف ایک بادشاہِ حقیقی اللہ رَبُّ الْعَالَمِیْن عَزَّوَجَلَّکی حجت اپنے جبروت کے ساتھ غالب ہوگی اور مخلوق اس کے سامنے حقیر ہوگی، اس کی رحمت کی امید اور عذاب کا خوف ہوگا اور ہم آپس میں گفتگو کرتے ہیں کہ آخری زمانہ میں اس امت کا حال ایسا ہوجائے گا کہ لوگ ظاہری طور پر توایک دوسرے کے بھائی بنیں گے اوردِلی طور