Brailvi Books

حضرت سیدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
31 - 58
حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مودبانہ لہجہ میں  جواب دیتے ہوئے عرض کیا:’’اے سردار!آپ مجھے اسکی اجازت عطافرمائیں  میں  غلاموں  کو قلعہ فتح کرنے کی غرض سے نہیں  بھیج رہابلکہ بند لفظوں  میں  ان کو یہ پیغام دینا چاہتاہوں  کہ اے صلیب کے پجاریو! ہماری نگاہوں  میں  تمہاری کوئی وقعت نہیں  ہمارے نزدیک تمہاری اتنی بھی اہمیت نہیں  کہ تمہارے جیسے ذلیلوں  اور بزدلوں  سے ہم خود لڑنے نکلنے کی زحمت گوارا کریں  تمہاری ذلت اور سفاہت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے اپنے غلاموں  کو تمہارے مقابلے میں  بھیجا ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اس تجویز کو بہت پسند فرمایااور خوش ہوکر انہیں  اس کی اجازت مرحمت فرمائی۔(1)
امیرالمومنین کی خدمت میں  مکتوب:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی ہمارے اسلاف نہ توحق بات کو قبول کرنے میں  کوئی عار محسوس کرتے اور نہ ہی حق بات کہنے میں  کوئی عار محسوس کرتے بلکہ اگر سامنے کوئی بڑے سے بڑاعہدیدار بھی ہوتاتو بلا جھجک اس سے اپنے دلی جذبات کا اظہار کر دیتے۔ چنانچہ،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 … فتوح الشام، الجزء الاول،ص۱۳۴