بات بالکل حتمی ہے، میرافیصلہ بالکل اٹل ہے، ماتحت اگرکوئی اچھا مشورہ دے تواسے بالکل نظراندازکردیتے ہیں بلکہ بسااوقات توان کی دل شکنی بھی کربیٹھتے ہیں لیکن حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سیرت کے اس عظیم گوشے کو بھی ملاحظہ کیجئے کہ سپہ سالار اوربا اختیار ہونے کے باوجودحضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیان کردہ جنگی حکمت عملی کوبغورسن کر نہ صرف اس کی اجازت عطافرمائی بلکہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئےان کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی حالانکہ وہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ماتحت تھے۔چنانچہ ،
ایک بارحضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فتوحات شام میں رومیوں کے غرور وتکبر کو توڑنے کے لیے علم نفسیات کا استعمال کرتے ہوئے ایک نئی تدبیر عمل میں لاتے ہوئے تمام غلاموں کو جمع کیا، اسلامی لشکر میں غلاموں کی تعداد چار ہزار تھی حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان سب کو مسلح ہو کر قلعہ کی طرف جانے اور حملہ کرنے کا حکم دیا۔ جبحضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو پتا چلا تو متعجب ہوکر پوچھنے لگے: ’’اے ابو سلیمان! غالباً تمہاری اس تجویز سے لڑائی کا مقصد حاصل نہ ہو گا، یہ چار ہزار غلام قلعہ پر حملہ کر کے فتح حاصل نہیں کر سکتے۔‘‘