Brailvi Books

حضرت سیدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
29 - 58
آفات پر آفت یہ کہ سیدھی طرح بات نہ کرنا، آتے ہی جھنجھوڑ ڈالنا، مُہْلَت نہ دینا، کَڑَکتی جِھڑَکتی آوازوں  میں  امتحان لینا۔ وَ حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ اِرْحَمْ ضُعْفَنَا یَا کَرِیْمُ یَا جَمِیْلُ صَلِّ وَ سَلِّمْ عَلَی نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ وَاٰلِہِ الْکِرَامِ وَ سَائِرِا لْاُمَّۃِ اٰمِیْنَ اٰمِیْنَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن۔
ترجمہ: اور اللہ ( عَزَّ وَجَلَّ  ) ہمارے لئے کافی ہے اوروہ سب سے بڑا کارساز ہے۔ اے کرم فرمانے والے!ہماری کمزوری پر رَحم وکرم فرما، اے ربِّ جمیل!دُرُودوسلام بھیج نبی رَحمت (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) پر اور ان کی عزّت والی آل اور بَقِیَّہ تمام اُمّت پر۔ قبول فرما، قبول فرما، اے سب سے زیادہ رَحم و کرم فرمانے والے!
کھڑے ہیں  منکر نکیر سر پر نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور
بتا دو آکر مرے پیمبر کہ سخت مشکل جواب میں  ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اچھا مشورہ قبول کرلیا:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج اگر ہمیں  کوئی ذمہ داری دے دی جائے تو ہمارے رویے میں  بہت تبدیلی آجاتی ہے اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں  کی بات تک سننا گوارا نہیں  کرتے اورذہن میں  یہی غلط خیال گردش کرتارہتاہے کہ میری