میں کھال کا کوئی حصہ ہوتا!
حضرت سیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’کوئی گورا ہو یا کالا، آزاد ہو یا غلام، عجمی ہو یا عربی جس کے متعلق مجھے معلوم ہو کہ وہ تقویٰ وپرہیزگاری میں مجھ سے بڑھ کر ہے تو میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں اس کی کھال کا کوئی حصہ ہوتا۔‘‘(1)
قبروحشرکی ہولناکیاں :
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ ۵۰۴ صفحات پر مشتمل کتاب غیبت کی تباہ کاریاں کے صفحہ ۶۷پرہے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی آخرت کامُعاملہ بے حد تشویش ناک ہے، کیا معلوم آج ہی موت آ جائے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہم اندھیری قبرمیں جا پہنچیں ، اوّل تو موت کا تصوُّر ہی جان کو گھلانے والا ہے اورساتھ ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ناراضی کی صورت میں خدانخواستہ جہنم میں ڈال دیے گئے تواس کاہولناک عذاب کیسے برداشت کریں گے۔
فکرِ معاش بد بلا ہولِ معاد جاں گزا
لاکھوں بلا میں پھنسنے کو روح بدن میں آئی کیوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الزھد للامام احمد بن حنبل ،أخبار عبیدۃ بن الجراح ، الحدیث:۱۰۲۷،ص۲۰۳