Brailvi Books

حضرت سیدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
26 - 58
تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’کچھ روٹی کھلاؤ۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے تھیلے سے روٹی کےکچھ سوکھے ٹکڑے نکال کرپیش کیے۔ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ دیکھا تو آبدیدہ ہوگئے اور روتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے ابو عبیدہ! تمہیں دنیااپنےجال میں  نہ پھنسا سکی۔‘‘(1)
کاش! میں  کوئی مینڈھاہوتا:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جنت کی سند عطا ہو جانے کے باوجود تمام صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کبھی بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی خفیہ تدبیر سے غافل نہ ہوئے بلکہ قیامت کی ہولناکیاں ،میدان محشر کی وحشتیں  اوراعمال کااحتساب یہ تمام امورِ آخرت انہیں  کسی وقت چین نہ لینے دیتے۔ حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بھی یہی کیفیت رہتی۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پر جب خوفِ خدا کا غلبہ ہوتا، دنیاکی آزمائشی زندگی اور اس کے فتنوں  کو دیکھتے تو بے ساختہ پکار اٹھتے: ’’کاش! میں  کوئی مینڈھا ہوتا جسے گھر والے ذبح کرتے او ر(پکاکر) اس کاگوشت کھا لیتے اور شوربا پی لیتے۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مرقاۃ المفاتیح ،کتاب المناقب،باب  مناقب العشرۃ المبشرۃ، تحت الحدیث:۶۱۲۰، ج۱۰، ص۴۹۴
2…تاریخ مدینہ دمشق، ج۲۵،ص۴۸۲