رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس لے جاؤاور کچھ دیر وہاں ٹھہرنا اور دیکھناکہ وہ انہیں کہاں صرف کرتے ہیں ؟ ‘‘ غلام نے تھیلی لی اور حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی:’’امیر المومنین فرماتے ہیں اس رقم سے اپنی کوئی حاجت پوری کر لیں۔‘‘حضرت سیدنامُعَاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کہا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ امیر المومنین پر رحم فرمائے۔‘‘پھر اپنی لونڈی کو بلا کر فرمایا:’’ اتنے درہم فلاں کے گھر ، اتنے فلاں کے گھر پہنچا دو۔‘‘
اسی اَثنا میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ کواس بات کاعلم ہواتوعرض کی:’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! ہم بھی مسکین ہیں ہمیں بھی عطا فرمائیں۔‘‘ اس وقت تھیلی میں صرف دو دینار باقی بچے تھے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے وہ تھیلی دیناروں سمیت اپنی اہلیہ کی طرف اُچھال دی۔غلام امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ سنایا۔یہ سن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبہت خوش ہوئے اور فرمایا:’’بے شک تمام صحابہ آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘(1)
دنیا اپنے جال میں نہ پھنساسکی:
ایک روایت میں یوں ہے کہ امیر المومنین حضرت سیدناعمرفاروق رَضِیَ اللہُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الزھد للامام احمد بن حنبل ، اخبار الحسن بن ابی الحسن ، الحدیث:۱۵۶۲، ص۲۸۳، بتغیرٍ