خیریت وغیرہ دریافت کی اور ان کے گھر تشریف لے گئے۔ امیرالمومنین حضر ت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کے گھر میں صرف تین چیزیں تلوار، تیروں کا ترکش اور کجاوہ دیکھا۔‘‘(1)
حضرت عمرکی آپ کونصیحت:
حضرت سیدناطارق بن شہاب عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْوَہَّابسے مروی ہے کہ جب امیر المومنین حضرت سیدناعمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ملکِ شام تشریف لائے۔ راستے میں ایک دریائی گزر گاہ پر پہنچے توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے اونٹ سے اترے،جوتے اتارکر ہاتھ میں پکڑے اور اونٹ کو ساتھ لئے پانی میں اتر گئے۔ ابو عبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:’’آج آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اہل زمین کے نزدیک بہت بڑا کام کیا ( یعنی یہ آپ کے شایانِ شان نہیں )آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ابو عبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے سینے پر ہاتھ مارااور فرمایا: ’’ اے ابو عبیدہ! کاش! یہ بات تمہارے علاوہ کوئی اور کہتا، بے شک تم عرب لوگ انسانوں میں سے ذلیل ترین لوگ تھے پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے دین اسلام کےصدقے تم کو معزز ترین بنا دیا لہٰذا جب بھی تم اسے چھوڑ کر کہیں اور عزت تلاش کرو گے، اللہ عَزَّوَجَلَّ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مراٰۃ المناجیح، ج۸، ص۴۳۶