Brailvi Books

حضرت سیدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
22 - 58
ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس تشریف لے گئے، دیکھا کہ وہ کجاوے کی چٹائی پر پالان کو تکیہ بنائے لیٹے ہیں۔ حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِستِفسَار فرمایا: ’’اے ابو عبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ! تم دوسروں  کی طرح آرام دِہ بستر پر کیوں  نہیں  لیٹتے؟‘‘عرض کی: ’’ اے امیر المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ! میرے آرام کے لئے یہی کافی ہے۔‘‘(1)
گھرکاکل سامان صرف تین چیزیں :
حضر ت سیِّدُنا مَعْمَر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی روایت میں  بیان کرتے ہیں  کہ جب امیر المومنین  حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مُلک ِشام تشریف لائے تو وہاں  کے خاص و عام تمام لوگوں  نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا اِستِقبال کیا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دریافت فرمایا: ’’میرا بھائی کہاں ہے؟‘‘ لوگوں نے پوچھا: ’’ کون؟ ‘‘ فرمایا: ’’ابو عبیدہ بن جَراح (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)۔‘‘ لوگوں  نے عرض کی: ’’وہ ابھی تھوڑی ہی دیر میں  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس پہنچ جائیں  گے۔ پھر جب ابوعبیدہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ امیرالمومنین  حضر ت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سواری سے اُترے اور سلام کیا،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد ،کلام ابی عبیدۃ بن الجراح، الحدیث:۱، ج۸،ص۱۷۳