Brailvi Books

حضرت سیدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
19 - 58
شارح صحیح مسلم حضرت سیِّدُنا ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی  اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :اس حدیث میں  اہل سنت کے اس موقف کی دلیل ہے کہ حضرت ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خلافت پر کوئی واضح نص نہیں  ،بلکہ منصب ِ خلافت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سپرد کئے جانے پرصحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا اجماع تھا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو (خلافت کے معاملے میں ) مقدم رکھنا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی فضیلت کے سبب سے تھا۔ اگر امیر المومنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یا کسی اور کی خلافت پر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جانب سے کوئی صراحت ہوتی تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے مابین کبھی نزاع نہ ہوتا۔(1)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی  اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : یہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا اپنا اندازہ ہے کہ اگر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اپنے بعد خلفا ترتیب وار مقرر فرماتے تو پہلے حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مقرر کرتے، پھر حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو، پھر حضرت ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوکیونکہ حضرت ابو عبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 …صحیح مسلم بشرح النووی، کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل ابی بکر الصدیق، ج۸، الجزء الخامس عشر، ص۱۵۵