رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جو مرتبہ ملا تھا اس سے بھی باخبر تھے، اسی وجہ سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وقتِ وصال اپنی تمنا کا اظہار کچھ یوں فرمایا: ’’اگر ابو عبیدہ زندہ ہوتے تو میں اپنے بعد انہیں خلیفہ بنا دیتا، اگر میرا رب کل قیامت میں مجھ سے ابو عبیدہ کو خلیفہ بنائے جانے کے بارے میں پوچھتا کہ تو نے ابو عبیدہ کو کیوں خلیفہ بنایا؟ تو میں کہتا: ’’اے میرے پیارے ربّ عَزَّ وَجَلَّ! میں نے تیرے ہی پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبانِ حقِ ترجمان سےسناہے کہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اوراس امت کا امین ابو عبیدہ ہے۔‘‘(1)
خلیفہ کے لیے انتخاب:
حضرت سیِّدُنا ابن ابی ملیکہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں : ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے پوچھا گیا کہ اگر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی کو خود خلیفہ بناتے تو کسے بناتے؟ فرمایا: ’’میرے والد گرامی یعنی حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو۔‘‘ پھر پوچھا: ان کے بعد؟ فرمایا: ’’عمر کو۔‘‘ پوچھا گیا: ان کے بعدکسے بناتے؟ فرمایا: ’’ابو عبیدہ بن جراح کو۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…تاریخ الاسلام للذھبی، الجزء الثالث،ج۳،ص۱۷۲
2 …صحیح مسلم، فضائل الصحابۃ،من فضائل ابی بکر صدیق،الحدیث:۲۳۸۵،ص۱۳۰۰