Brailvi Books

حضرت سیدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
17 - 58
میرے پاس ابوعبیدہ جیسے مردوں  سے بھرا ہوا ایک کمرہ ہوتا۔‘‘(1)
فراستِ فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ :
سُبْحَانَ اللہعَزَّوَجَلَّ! صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی کتنی پیاری اور اعلیٰ سوچ تھی، نہ یہ شہرت کے طالب ہوتے نہ دولت کے، بلکہ دولت کے حصول سے پہلے ہی یہ حضرات اس سے چھٹکارا پانے کی تدابیر سوچ لیا کرتے تھے، امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی فراست پر قربان! آپ کی تمنا کتنی حکمت بھری ہے کہ مال صدقہ کرنے کی تمنا کر نابھی اگرچہ اچھاہےمگراس کا دائرہ اثر اتنا وسیع نہیں ، زیادہ سےزیادہ اس کافائدہ ایک فرد یا چند مخصوص افراد کو ہو گا لیکن حضرت سیِّدُنا ابو عبید ہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  جیسے ذہین، دلیر افراد سے پوری ملت اسلامیہ کو فائدہ پہنچے گا اور اسلام کی ترویج و اشاعت کا باعث بنے گا۔
منصب خلافت سونپنےکی آرزو:
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے انتظامی امور کو چلانے اور اپنے ماتحتوں  کے ساتھ حسنِ سلوک جیسے تمام معاملات سے بھی آگاہ تھے، بارگاہِ رسالت سے آپ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 …الریاض النضرۃ، ج۲،ص۳۵۱