عبیدہ بن جراح ہیں۔‘‘(1)
حکیم الامت مفتی احمدیار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :’’خیال رہے کہ یہ صفات تمام صحابہ میں تھیں مگر حضرت سیدناابوعبیدہ بن جراح میں عَلَی وَجْہِ الْکَمَال (یعنی کامل طور پر)تھیں اورحضرت سیدناابو عبیدہ بن جراح میں امانت داری کے سوا اور بہت صفات تھیں مگر یہ صفات نمایاں تھی اس لیے فرمایا کہ اس امت کے امین ابو عبیدہ ہیں لہٰذا اس سے نہ تو یہ لازم ہے کہ باقی صحابہ امین نہ تھے، نہ یہ کہ جناب ابوعبیدہ میں سوائے امانت داری کے اور کوئی صفت نہ تھی۔(2)
سیدنا عمر فاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خواہش:
ایک بارامیر المومنین حضرت سیدناعمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے دوستوں کے ساتھ تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا:’’آپ لوگوں کی دلی تمناکیاہے؟‘‘کسی نے عرض کی: ’’میری تمنایہ ہےکہ کاش میرے پاس سونے سے بھرا ہوا ایک کمرہ ہوتا اور میں وہ سارا راہِ خدا میں لٹا دیتا۔‘‘ کسی نے کہا: ’’کاش! میرے پاس ہیرے جواہرات سے بھرا ہوا کمرہ ہوتا اور میں اسے راہِ خدا میں خرچ کر دیتا۔‘‘ امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’کاش!
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی، کتاب المناقب، مناقب معاذ بن جبل، الحدیث:۳۸۱۵،ج۴،ص۴۳۵
2 …مراٰۃالمناجیح، ج۸، ص۴۳۴