Brailvi Books

حضرت سیدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
15 - 58
آپ (کے ہاتھ پر آپ) کی بیعت نہ کر لوں ؟ کیونکہ میں  نے حضور نبی ٔ کریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: آپ اس امت کے امین ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’میں  ایسے شخص (یعنی حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کے آگے کیسے نماز پڑھ سکتا ہوں  جنہیں  پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمارا امام بنایا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دنیا سے پردہ فرمانے تک وہ ہمارے امام ہی رہے۔‘‘(1)
مراتب عاشقانِ مصطفےٰ بزبانِ مصطفےٰ:
حضرت سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں  کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’میری اُمت میں  سب سے زیادہ شفیق اور مہربان ابوبکر، دینی معاملات میں  سب سے زیادہ سخت عمر، حیاکے معاملے میں  سب سے زیادہ سچے عثمان، کتاب اللہ کے سب سے بڑے قاری اُبی بن کعب، علم الفرائض کوسب سے زیادہ جاننے والے زیدبن ثابت اورحلال وحرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل ہیں  اور سن لو! ہر اُمت میں  ایک امین ہوتا ہے اس اُمت کے امین ابو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 …المستدرک، ذکر مناقب ابی عبیدۃ، الحدیث: ۵۱۶۴، ج۳، ص۳۰۰