حَآدَّ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَوْ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمْ اَوْ اَبْنَآءَہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیۡرَتَہُمْ ؕ اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الْاِیۡمَانَ (پ۲۸، المجادلۃ:۲۲)
دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرما دیا۔(1)
صدیق اکبرکے نزدیک آپ کا مقام:
سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفاتِ ظاہری کے بعد خلافت کے معاملے میں امیر المومنین حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے لوگوں سے ارشاد فرمایا: ’’یہ دو افراد میرے پسندیدہ ہیں یعنی حضرت سیدنا عمر فاروق اور حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن جراح (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ) ان دونوں میں سے جس کی چاہے بیعت کر لو۔‘‘(2)
آپ کے نزدیک صدیق اکبرکامقام:
امیر المومنین حضر ت سیدنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا: ’’اے ابوعبیدہ! کیا میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المعجم الکبیر ، الحدیث:۳۶۰، ج۱، ص۱۵۵
2 …الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، الرقم ۱۳۴۰ عامر بن عبد اللہ، ج۲،ص۳۴۲