عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ان دونوں نصوص کی منہ بولتی تصویرتھے اور بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے تواس کا ایسا عملی مظاہرہ فرمایا کہ رہتی دنیا تک اسے یاد رکھا جائے گا، حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی وہ صحابی ہیں جنہوں نے اسلام اورمبلغِ اسلام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت میں قطعاً کسی کی پرواہ نہ کی کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اَلْحُبُّ فِی اللہ وَالْبُغْضُ فِی اللہ (یعنی محبت اوردشمنی صرف اللہ کے لیے ہو) کی منہ بولتی تصویرتھے۔چنانچہ حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا کافر باپ جنگ ِبدر یا اُحد کے دوران آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے آتامگر ہٹ جاتا۔ کئی بار ایسا ہی ہوا اور جب وہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے آڑے آیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کا سر قلم کر دیا۔‘‘(1)
آپ کے حق میں نازل ہونے والی آیت:
حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب اپنے والد کا سر قلم کیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی:
لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآ دُّوۡنَ مَنْ
ترجمۂ کنز الایمان: تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تہذیب التہذیب، حرف العین، ج۴، ص۱۶۳