Brailvi Books

حضرت سیدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
10 - 58
تَعَالٰی عَنْہ کو بھیجا۔(1)
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کی شرح میں  فرماتے ہیں : مطلب یہ ہے کہ نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا امین ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ زید جیسا عالم ہونے کا حق ہے ویسا عالم ہے۔ سارے صحابہ امانت والے ہیں  مگر حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اوّل نمبر امانت دار۔‘‘(2)
محبوبِ حبیب خدا:
حضرت سیدنا عبد اللہ بن شقیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں  کہ میں  نے ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے پوچھا: ’’سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ابوبکر، پھر عمر اور اس کے بعد ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم۔‘‘ میں  نے پوچھا: ’’پھر کون؟‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے کوئی جواب نہ دیا اور خاموش ہی رہیں۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی،الحدیث:۳۷۴۵،ج۲،ص۵۴۶
2…مراٰۃ المناجیح، ج۸،ص۴۴۷
3…سنن ابن ماجہ، فضائل اصحاب رسول اللہ، فضل عمر، الحدیث:۱۰۲، ج۱، ص۷۵