ہے کہ اس میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی اس سے مقصودلوگوں کو ایسے کام سے باز رکھنا ہے جس کی یہ سزا ہے اور جس پر حد قائم کی گئی وہ جب تک توبہ نہ کرے محض حد قائم کرنے سے پاک نہ ہوگا۔ ‘‘(۱)
حدودِحرم میں شکار کے متعلق اِجتہاد:
ایک بارامیر المومنین حضر ت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے حدودِ حرم میں ہرن کے شکارکےمتعلق کسی نے سوال کیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے پہلو میں بیٹھے حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مشاورت کر کے ایک بکری کے کفارے کا حکم ارشادفرمایا۔(۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مُحْرِم یعنی جو حالت احرام میں ہو اس کے لیے حدودِ حرم میں شکار کرنا جرم ہے اور اگر کسی مُحْرِم سے یہ جرم صادر ہو جائے تو اسے اس کا کفارہ ادا کرنا ہو گا۔
تعدادِ رکعات میں شک :
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(۱)…بھارِ شریعت، ج۲، ص۳۶۹
(۲)…المعجم الکبیر، الرقم نسبۃ عبدالرحمن بن عوف ، الحدیث: ۲۵۸، ج ۱، ص ۱۲۷ملتقطاً