جوتوں سے مارا،پھر امیر المومنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے چالیس کوڑے مارے،پھر جب امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دورِ خلافت میں لوگ سبزہ زاروں اور دیہاتوں کے قریب رہنے لگے (اور شراب کے معاملے میں بے باک ہوگئے) تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے شراب نوشی کی حد کے بارے میں مشورہ طلب کیا کہ تمہاری کیا رائے ہے ؟تو حضرت سیِّدُناعبدالر حمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: ’’میری رائے یہ ہے کہ حددومیں جوسب سے کم حد ہے (یعنی80 کوڑے) اسے اختیار فرمائیں۔‘‘ لہٰذا حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہی حد (یعنی اسی کوڑے) مقرر فرما دی۔(۱)
حد کسے کہتے ہیں ؟
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1182 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلددوم صَفْحَہ 369 پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حد ایک قسم کی سزا ہے جس کی مقدار شریعت کی جانب سے مقرر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(۱)الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، عبد الرحمن بن عوف، ج ۴، ص ۲۹۱