Brailvi Books

حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
96 - 126
بارگاہِ نبوت میں حاضر نہ ہو سکتا وہ اُن صحابۂ  کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے شرعی رہنمائی حاصل کرلیتاجنہیں سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے علمی وجاہت کی بنا پر اس کام کی اجازت عطا فرما رکھی تھی۔ چنانچہ، 
امام احمد بن علي بن حجر ابو الفضل عسقلاني شافعي عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ’’حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا شمار اُن ذی وقار شخصیات میں ہوتا ہے جو سرکارِ دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں فتویٰ دیا کرتے تھے۔‘‘(۱)
بہت سے صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اوربالخصوص امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُناعبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی علمی جلالت کی وجہ سے آپ سے مسائل شرعیہ میں مشاورت فرماتے اور اکثر آپ کی رائے کو ترجیح دیتے۔ چنانچہ،
 شراب کی حدجاری کرنے میں اجتہاد:
حضرت سیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے شراب نوشی پر درخت کی شاخ اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(۱)…الریاض النضرۃ،ج۲،ص۳۰۷