اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی قسمت پرکہ خود رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں اپنے دوست ہونے کا شرف عطافرمایا۔چنانچہ مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود حضرت سیِّدُناعبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشادفرمایا:’’اَنْتَ وَلِیِّی فِی الدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃِ‘‘ یعنی اے عبد الرحمن بن عوف!تم دنیاوآخرت میں میرے دوست ہو۔‘‘(۱)
علمی مقام ومرتبہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جہاں دنیاوی مال ومتاع سے نوازاتھا وہیں آپ کی علمی بصیرت بھی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں ممتاز تھی اور امیر المومنین حضرت عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبھی مسائل شرعیہ میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مشاورت فرمایا کرتے تھے۔
دورِ رسالت کے مفتی:
عہدِ رسالت میں عام طور پر کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ عالی میں حاضر ہو کر دریافت کر لیتا جو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(۱) صحیح مسلم بشرح النووی،ج۲ الجزءالثالث،ص۱۷۲