Brailvi Books

حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
94 - 126
 وَالسَّلَام  کی آہٹ کا خیال رکھتے تھے۔ 
دوسرے یہ کہ صحابۂ  کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نماز میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کا ادب کرتے تھے جس سے ان کی نماز ناقص نہ ہوتی بلکہ کامل تر ہو جاتی تھی۔
تیسرے یہ کہ اگر عین جماعت نماز کی حالت میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  تشریف لے آئیں تو موجودہ امام کی امامت منسوخ ہو گئی اور اس وقت سے حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی امام ہوں گے ورنہ حضرت عبدالرحمنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  پیچھے ہٹنے کی کوشش نہ کرتے۔
چوتھے یہ کہ اس امام کو اگر حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  امامت کا حکم دیں تو حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کا نائب ہو کر امامت کرے گا۔ 
پانچویں یہ کہ افضل کی نمازمفضول کے پیچھے جائزہے۔ (۱)
تیسرا اعزاز:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ایک اچھے ہمنشین اور دوست کا ہونا بھی بہت بڑے اعزاز کی بات ہے ،آج دُنیاوی طورپر کسی کاکوئی اچھا دوست ہوتووہ اس پر فخر محسوس کرتاہے لیکن قربان جائیے حضرت سیِّدُناعبد الرحمن بن عوف رَضِیَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(۱)…مراۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح،  ج۱ ، ص ۳۳۶