کی موجودگی کومحسوس کیاتوپیچھے ہٹنے لگے لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اشارے سے منع فرما دیا، حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے نماز جاری رکھی اور دوسری رکعت مکمل کرکے سلام پھیردیا،سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھڑے ہوگئے اوراپنی نماز کومکمل فرمایا۔(۱)
حضرت سیِّدُنا محمد بن سعد بن منيع ابو عبد اللہ بصري (مُتَوَفّٰی ۲۳۰ ھ) فرماتے ہیں کہ جب میں نے یہ حدیثِ مبارکہ حضرتِ سیِّدُنامحمدبن عمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو پیش کی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اسکی تصدیق کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: جب تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی اقتدا میں نماز ادا فرمائی تو سلام کے بعد ارشاد فرمایا: ’’ہرنبی نے دنیاسے پردہ فرمانےسے قبل اپنے کسی نیک امتی کے پیچھے نمازضرور ادافرمائی ہے۔‘‘(۲)
مُفَسِّرِ شَھِیر، حکیمُ الامَّتمفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اس سے چند مسائل معلوم ہوئے:
ایک یہ کہ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان عین نماز کی حالت میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(۱)صحیح مسلم،کتاب الطھارۃ،باب المسح علی الناصیۃ والعمامۃ، الحدیث:۲۷۴، ص۱۶۰
(۲)الطبقات الکبرٰی لابن سعد ، عبد الرحمن بن عوف، ج ۳، ص ۹۵