Brailvi Books

حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
92 - 126
کے سروں پرشیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے مبارک ہاتھوں سے عمامہ شریف سجاتے ہیں ،اس کی اصل بھی یہی حدیث مبارکہ ہے چنانچہ،
مُفَسِّرِ شَھِیر، حَکِیمُ الْاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اسی حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ:’’آج کل فارغ التحصیل طلبا کے سروں پر علما عمامے لپیٹتے ہیں جسے رسمِ دستار بندی کہا جاتا ہے۔ اس کی اصل یہ حدیث ہے۔ ‘‘(۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دوسرا اِعزاز:
حضرتِ سیِّدُنامُغِیْرَہْ بِنْ شُعْبَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ غزوۂ تبوک سے واپسی پر (۲) ایک جگہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشرف لائے توصحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حضرت عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی اقتدا میں نمازِ فجر ادا فرما رہے تھے، ایک رکعت مکمل ہو چکی تھی، جب حضرت عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(۱)…مراۃ المناجیح، ج۶، ص۱۰۵
(۲)…الطبقات الکبرٰی لابن سعد ، عبد الرحمن بن عوف، ج  ۳، ص  ۹۵